17 اپریل 2010 - 19:30

اہل البیت نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر معظم کے خصوصی معائنہ دفتر (Inspection Office) کے سربراہ «حجت‏الاسلام والمسلمین علی‏اکبر ناطق نوری» نے مہر نیوز ایجنسی کے ساتھ اپنے انٹرویو میں عوامی مشکلات حل کرنے کے حوالے سے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے خصوصی اہتمام اور سعی و کوشش کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا ہے جو ہمارے قارئین کے لئے بھی خوشائند ہی ہوگا؛ پڑھیں اور چاہیں تو رائے بھی دے دیں:

جس وقت مجلس خبرگان کی فیصلہ کن رائے سے رہبر معظم کو رہبر منتخب کیا گیا تو انھوں نے مجھے بلوایا اور فرمایا: میں فکرمند ہوں کہ اگر کسی دن ملک کے نگران اداروں کی جانب سے عوام کی صورت حال کے بارے میں کوئی ایسا خط مجھے موصول ہو جو حقائق سے مطابقت نہ رکھتا ہو تو مجھے ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے کیا کرنا چاہئے؟ لہذا آپ ایک چھوٹا سا دفتر کھولیں اور کہ اگر کسی نے شکایت کی تو ہم عوام کی آخری پناہگاہ کی حیثیت سے عوام کے حقوق کے لئے اقدام کرسکیں. انھوں نے اس دفتر کے لئے "چھوٹا" کی قید لگائی تو ہم نے بھی ایک چھوٹا سا دفتر کھولا جس کے اراکین کی تعداد بارہ افراد پر مشتمل تھی اور ان افراد کو تین، چاررکنی گروپوں میں منظم کیا گیا: ("معاشی امور"، "ثقافتی امور"، "سیاسی و سلامتی سے متعلق امور" اور "عدالتی و قانونی امور" ہر گروپ ایک سربراہ اور دو ماہرین پر مشتمل ہے). تاہم اگر کسی کیس میں ضرورت پڑے تو بیرونی ماہرین سے بھی استفادہ کرتے ہیں. اس دفتر میں میری 20 سال تک خدمت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ رہبر معظم اس دفتر کی رپورٹوں کو بہت اہمیت دیتے ہیں؛ 20 سال کے اس عرصے میں مجھے یاد نہیں پڑتا ہے کہ انھوں نے حتی ایک بار بھی ہماری رپورٹوں کو غیر اہم قرار دیا ہو. تقریبا ہماری تمام تر تجاویز کو بھی انھوں نے قبول کیا اور ان کی تأئید فرمائی اور متعلقہ اداروں کو مطوبہ اقدام کی ہدایت کی گو کہ ہم صرف معائنہ کرتے ہیں اور دستاویزات اکٹھی کرکے ان کے دفتر میں ان کے حضور پیش کرتے ہیں اور وہ تمام رپورٹوں کا مطالعہ کرتے ہیں اور اپنے دفتر کو کیس پر کام کرنے کی ہدایت کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ متعلقہ اداروں کو بھیجا جائے. کسی زمانے میں کردستان کا ایک نوجوان ـ جو مہاباد شہر میں کام کرتا تھا ـ گرفتار ہوا اور زیر حراست ہی تھا کہ دنیا سے رخصت ہوا. اس نوجوان کے والد شاہ کے زمانے کے ریٹائرڈ پولیس اہلکار تھے جنہوں نے ایک معمولی سا خط رہبر معظم کے نام تحریر کیا اور پوسٹ آفس کے بکس میں ڈال دیا تو اس کے یار دوستوں اور رشتہ داروں نے ان کا بہت مذاق اڑایا اور کہا: کس خوش فہمی میں مبتلا ہے یہ مرد جس نے پوسٹ آفس کے ایک صندوق میں ایک خط پھینک دیا ہے اور توقع کررہا ہے کہ یہ خط رہبر انقلاب کو موصول ہوگا اور اس خط کو اہمیت بھی ملے گی.خوش قسمتی سے یہ خط پوسٹ آفس سے رہبر معظم کے تعلقات عامہ میں پہنچا اور وہیں سے رہبر انقلاب کی دفتر کو موصول ہوا اور آخر کا رہبر معظم کے ہاتھوں تک پہنچا. رہبر معظم نے میرے لئے تحریر کیا کہ اس مسئلے پر غور و خوض کروں؛ اس وقت عدلیہ کے سربراہ آیت اللہ یزدی تھے. میں نے ان سے ایک قاضی روانہ کرنے کی درخواست کی اور جوڈیشل آرڈر بھی لیا. ہماری ٹیم ایک قاضی اور عدلیہ کا باضابطہ حکم لے کر جب مہاباد میں داخل ہوئی تو یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح ہر سو پھیل گئی. اس بوڑھے پولیس اہلکار نے بھی طعنہ دینے والوں سے کہا تھا کہ میں نے تم سے نہ کہا تھا کہ یہ اسلامی جمہوریہ ہے اور تم مجھے میرے کام کی وجہ سے مذاق اور زخم زبان کا نشانہ بنارہے تھے! تم نے دیکھا کہ میرا خط رہبر انقلاب کو ملا اور انھوں نے چار جج میرے خط کے بارے میں تحقیق کرنے کے لئے روانہ کئے ہیں!خلاصہ یہ کہ ہمارے معائنہ دفتر کا یہ اقدام مفید اثرات کا موجب بنا اور ہماری ٹیم کے اقدامات کی وجہ سے معلوم ہوا کہ علاقے کا رہنے والا ایک پولیس اہلکار اس جرم کا مرتکب ہوا ہے چنانچہ اسے گرفتار کیا گیا اور قتل کا الزام ثابت ہونے پر عدالت نے اس کو موت کی سزا سنائی. مگر حکم پر عملدرآمد ہونے کی بنا پر ایک دوسرا خاندان بھی داغدار ہوتا چنانچہ ہم نے وساطت کی اور مقتول کے خاندان نے خون بہاء (دیت) لینے پر رضامندی ظاہر کی چنانچہ یہ مسئلہ بخیر و خوبی حل ہوا. تاہم ہماری وساطت اور دو خاندانون کے درمیان صلح کرانا اور مقتول کے خاندان کو دیت لینے پر راضی کرنا ہمارے فرائض منصبی سے باہر کا کام تھا جو ہم نے سرانجام دیا تھا.میں نے رپورٹ رہبر معظم کے حوالے کی اور جب وہ رپورٹ کا دوسرا حصہ پڑھنے لگے تو ان کی آنکھیں پرنم ہوئیں اور فرمایا: یہ معائنے سے بالاتر ہے کیونکہ ایک طرف سے آپ لوگوں نے مسئلے کا جائزہ لے کر قاتل کو پکڑا اور پھر اس قاتل کا مسئلہ بھی حل کیا جو درحفیقت ایک نوجوان تھا اور غلطی کا مرتکب ہوا تھا.

/110